اسلام آباد: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی پاکستان پہنچ گئے، اعلیٰ سطحی ملاقاتیں متوقع
اسلام آباد میں سفارتی سرگرمیوں میں اہم پیش رفت ہوئی ہے جہاں اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ Abbas Araghchi سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے۔
ذرائع کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ کی اسلام آباد آمد پر پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ Ishaq Dar سمیت اعلیٰ حکام نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر فوجی اور سول قیادت کے نمائندے بھی موجود تھے۔
تفصیلات کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ اپنے دورے کے دوران پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں کریں گے، جن میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور خطے میں امن و استحکام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقاتوں میں مشرق وسطیٰ کی تازہ صورتحال، علاقائی کشیدگی میں کمی اور سفارتی روابط کو مزید مضبوط بنانے پر بھی بات چیت متوقع ہے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہیں اور مختلف ممالک کشیدگی کم کرنے کے لیے رابطے بڑھا رہے ہیں
ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات، پاکستان میں اہم سفارتی سرگرمیوں کی قیاس آرائیاں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے حالیہ بیانات میں اس تاثر کو مسترد کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی ختم کرنے کے لیے امریکہ پر کوئی بیرونی دباؤ موجود ہے۔ تاہم اسی دوران سامنے آنے والی اطلاعات نے امریکی انتظامیہ کے سرکاری بیانات اور پس پردہ سفارتی کوششوں کے درمیان ایک واضح تضاد کو جنم دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئندہ دنوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ یا براہ راست مذاکرات کے امکانات ایک بار پھر زیر بحث ہیں، جن کے لیے پاکستان کو ممکنہ میزبان ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق جمعہ کے روز وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ اشارہ دیا گیا کہ امریکہ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور سابق مشیر جیرڈ کشنر ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے لیے اسلام آباد کا دورہ کر سکتے ہیں۔ اگرچہ اس کی سرکاری سطح پر مکمل تصدیق نہیں ہوئی، لیکن اس خبر نے عالمی سفارتی حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ فریقین سخت بیانات کے باوجود کسی نہ کسی سطح پر بات چیت کے ذریعے حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پہلے دور کے مذاکرات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں وفد کی شرکت کا ذکر کیا گیا تھا، تاہم دوسرے دور میں ان کی موجودگی کی باضابطہ تصدیق ابھی تک سامنے نہیں آئی۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق ضرورت پڑنے پر جے ڈی وینس کو دوبارہ اس عمل میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
سفارتی مبصرین کے مطابق اگر اعلیٰ سطحی شخصیات مذاکرات سے دور رہتی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ فوری طور پر بڑی پیش رفت کا امکان کم ہے، تاہم بات چیت کا جاری رہنا اس بات کی علامت ہے کہ دونوں فریق کسی نہ کسی معاہدے کی طرف بڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ پاکستان میں ممکنہ مذاکرات کس سطح اور کس فارمیٹ میں ہوں گے، تاہم خطے میں بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیوں نے اسلام آباد کو ایک ممکنہ اہم سفارتی مرکز کے طور پر دوبارہ توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
مزید تفصیلات اور سرکاری تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔


Comments
Post a Comment