پنجاب میں مودی کے سڑک پر پھنس جانے کے بعد سکھوں کو نسل کشی کے خطرات کا سامنا

 




 بھارتی پنجاب کے دورے کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے ایک فلائی اوور پر 20 منٹ تک پھنسے رہنے کے بعد بی جے پی نے کسانوں کے پرامن احتجاج کو وزیر اعظم کی زندگی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

زرائع ابلاغ کے مطابق بی جے پی کے کئی تصدیق شدہ ہینڈلرز نے اس کا موازنہ اندرا گاندھی کے قتل کے ساتھ کرتے ہوئے 1984ء کو دہرانے ، سکھوں کا قتل عام کرنے اور ہر پنجابی کو فوج سے بے دخل کرنے جیسی سکھوں کی نسل کشی کی کالیں دی ہیں۔ اتر پردیش سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ابھیجیت سنگھ سانگا نے ٹویٹ کیاکہ انہیں اندرا گاندھی سمجھنے کی غلطی نہ کریں، ان کانام شری نریندر دامودر داس مودی ہے۔ آپ کو لکھنے کے لیے کاغذ یا پڑھنے کے لیے تاریخ بھی نہیں ملے گی۔مہاراشٹر کے ایک اور بی جے پی لیڈر اودھوت واگھ نے ٹویٹ کیاکہ پنجاب کے وزیراعلیٰ کو پھانسی پر لٹکا دو جب تک وہ مر نہ جائیں۔پنجاب کے وزیر اعلی چرنجیت سنگھ چھی نے ایک پریس کانفرنس میں کہاکہ میں پوچھتے پوچھتے تھک گیا ہوں کہ وزیر اعظم کو کیا سیکورٹی خطرہ تھا؟ وزیر اعظم کے ایک کلومیٹر کے دائرے میں کوئی مظاہرہ نہیں تھا، وزیر اعظم کی سیکورٹی کے لیے 6000 سیکورٹی اہلکار، آئی بی اور ایس پی جی موجود تھے۔ کیا خطرہ ہو سکتا تھا؟ ایک اور ٹویٹ میں کہاگیا کہ پگڑی دہشت گردی عروج پر ، آپریشن بلیو اسٹار جلد ہوگا۔ ایک تصدیق شدہ ٹویٹر صارف سشیل کیڈیا نے ٹویٹ کیا ”اگر نریندر مودی پر ایک خراش بھی آ جاتی تو راہول گاندھی آپ سمجھ لیں کیا ہو سکتا تھا…؟ 1984 کو لوگ بھول جاتے، واضح طور پر آگاہ رہیں۔ مودی 130 کروڑ بھارتیوں کے خاندان کے سربراہ ہیں“۔فیس بک پر سکھوں کے خلاف نسل کشی کی کالیں بھی دی گئیں۔اکال تخت کے جتھیدار گیانی ہرپریت سنگھ نے ایک ویڈیو پیغام کے ساتھ ٹویٹ کیا ہے جس میں وزیر اعظم کے دفتر پر زور دیا گیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر سکھوں کے خلاف ’نفرت انگیز دہشت گردی‘ کے خلاف کارروائی کریں اور ان کے خلاف بغاوت کے مقدمات درج کریں۔ ایک صحافی گرپریت ایس سہوتا نے ٹویٹ کیاکہ مودی کی فیروز پور ریلی بالکل خالی تھی، وجہ خراب موسم اور احتجاج تھا۔ اس فلاپ ریلی نے اسے واپس جانے پر مجبور کردیا۔ ٹول پلازہ پر مظاہرین نے 100 کے قریب بسیں روکیں جو جموں سے بی جے پی کے حامیوں سے بھری ہوئی تھیں۔بی جے پی کی ریلی میں 70000 کرسیاں لگائی گئی تھی لیکن وہاں صرف 700 افراد آئے۔اپدیش کور نے ٹویٹ کیا کہ میں بھارت میں رہتی ہوں جہاں وزیر اعظم 15 منٹ کے جام میں خود کو غیرمحفوظ محسوس کرتے ہیں اور میں پھر بھی بھارت میں رہتی ہوں جہاں کسانوں کو گاڑیوں کے نیچے کچلا جاتاھے

Comments