عمران خان کے سیاسی ٹریپ میں سب پھنس گئے ہیں ۔

 


کل بھی بتایا تھا کہ چوہدری اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر واپس نہیں آئے بلکہ عمران خان کی سیاسی چال کی وجہ سے واپس آئے ہیں۔  عمران خان کو پہلے سے معلوم تھا کہ کون سے ارکان بک چکے ہیں اور وہ کس جگہ پر موجود ہیں ۔ انھوں نے ڈی چوک جلسے میں ان سب کو ایکپسوز کرنے کا پلان بنایا تھا۔ زرداری نے اس دور اتحادیوں کو زیر کر لیا جس کے بعد عمران خان نے پلان بی لانچ کیا اور اتحادیوں تک پیغام پہنچا دیا کہ ہمیں موجود ہے کہ فلاں فلاں ارکان فلاں ہاؤس میں موجود ہیں۔ اب سوچ لو کہ تمہارا حشر ان کے ساتھ کیا جائے یا تم نے سیاست کرنی ہے۔ اگر یہ لوگ فوراً واپس نہ آتے تو بکے ہوئے ارکان کے ساتھ ان پہ بھی پیسے لینے کا الزام لگتا اور سب اکٹھے تباہ ہوتے۔ 

اتحادیوں نے یہ دیکھ کر فوراً واپسی کی راہ لی اور پیر عمران خان نے کچھ ٹپس میڈیا پہ پھیلا دیں اور پھر جگہ سمیت معلومات لیک کرنا شروع کر دیں۔ اس صورتحال میں زرداری اور باقی اپوزیشن گھبرا گئے۔ پہلے انھوں نے اس پریشر سے نکلنے کےلیے خود اعتراف کرنا شروع کیا کہ پی ٹی آئی کے لوگ ہمارے ساتھ ہیں لیکن جب ان پہ اغوا کے الزامات لگے تو یہ قانوناً پھنس گئے۔ بالآخر آج انھوں نے اس سے نکلنے کا یہ حل نکالا کہ ہم خود ہی ان کے انٹرویو لے کر ان کی مرضی واضح کروائیں۔  

یہ ایک اور بڑی غلطی تھی ۔ اپوزیشن کے پاس اب کوئی راستہ نہیں بچا تھا لہذا انھوں نے ان ارکان کی قربانی دے کر اپنی سیاست بچانے کی کوشش کی لیکن اب گیم ان کے ہاتھ میں نہیں رہی۔  یہ تمام ارکان تو ہارس ٹریڈنگ کی وجہ سے مقدمات بھگتیں گے لیکن انھوں نے عمران خان کو جواز دے دیا ہے کہ وہ اب ان کے خلاف سخت قدم اٹھا سکتا ہے۔  وزیر داخلہ نے گورنر راج لگانے کی بات بھی کر دی ہے۔ زرداری نے اس حرکت سے پیپلز پارٹی کو تباہ کر دیا ہے۔ ن لیگ تو پہلے سے تباہ ہے لیکن اب جو پیپلز پارٹی کا جو حال ہو گا وہ بھی سب دیکھیں گے۔ تحریک عدم اعتماد اب بہت پیچھے رہ گئی ہے۔ اس کی کامیابی کے امکانات اب صفر ہیں۔ اب ایک نئی گیم شروع ہو چکی ہے۔  یہ لوگ کپتان کے چنگل میں پھنس چکے ہیں۔ یہ ایکپسوز بھی ہو چکے ہیں اور اب ان کے ہاتھ بھی کچھ نہیں آئے گا۔ اب تباہی و بربادی ان کا مقدر بن چکی ہے !!!

 رضا چوہدری * 🖌️

Comments